ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / این ڈی اے میں صرف کمزور گٹھ بندھن اتحاد چاہتی ہے بی جے پی:چندرا بابو نائیڈو

این ڈی اے میں صرف کمزور گٹھ بندھن اتحاد چاہتی ہے بی جے پی:چندرا بابو نائیڈو

Wed, 04 Apr 2018 00:58:31    S.O. News Service

نئی دہلی،03؍اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا)آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو نے بی جے پی پر الزام لگایا ہے کہ وہ ریاست میں علاقائی تحریک اور بدامنی کو فروغ دے رہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ این ڈی اے میں بی جے پی صرف کمزور ساتھیوں کو رکھنا چاہتی ہے۔ تیلگو دیشم پارٹی لیڈر این چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ بی جے پی اپنے سیاسی فوائد کے لئے آندھرا پردیش کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے اور ریاست کو خصوصی درجہ دینے کے وعدے کو پورا نہ کر آندھرا کے عوام کو سزا دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی یہ سمجھ نہیں پا رہی کہ آندھرا پردیش کی ترقی کو نقصان پہنچا کر وہ بھارت کی ترقی کو بھی روک رہی ہے۔غور طلب ہے کہ چندرا بابو نائیڈو دو دن کے دہلی دورے پر ہیں۔ان دہلی دورے کا ایجنڈا کیا ہے، اس کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہاکہ میرا ایجنڈا آندھرا کے ساتھ ہونے والے ظلم کو ملک کے سامنے لانا، مرکزی حکومت پر دباؤ بنانا اور دیگر علاقائی پارٹیوں کی حمایت کرناہے۔میں دوسرے پارٹیوں کے لیڈروں پر زور دوں گا کہ وہ ہمارا ساتھ دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں اس مسئلے کو اٹھائیں۔
مرکز میں کسی تیسرے محاذ کے بننے کی حمایت کے سوال پر چندرا بابو نائیڈو نے کہاکہ فی الحال تو میری ترجیح آندھرا کا مفاد ہے۔ ٹی ڈی پی کا ہمیشہ یہ ماننا رہا ہے کہ علاقائی قیادت لوگوں کے زیادہ قریب ہوتا ہے اور اس وجہ سے یہ کوآپریٹو سنگھواد کے پس منظر میں علاقائی پارٹیوں کو مضبوط کرنے میں مدد کرتا رہے گا۔بی جے پی سے رشتے خراب ہونے کی کیا وجہ رہی، کیا بی جے پی نے آندھرا میں 10 لوک سبھا اور 50 اسمبلی سیٹوں کی مانگ کی تھی، اس کے جواب میں نائیڈو نے کہاکہ بی جے پی نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔کوئی مطالبہ ہوتا تو میں اس کو مسترد کر دیتا۔نہ تو بی جے پی آندھرا پردیش میں اتنی مضبوط ہے اور نہ ہی میری مقبولیت اتنی کم ہوئی ہے۔ہم نے آندھرا پردیش کے مفاد کو دیکھتے ہوئے ہی سال 2014 میں بی جے پی کے ساتھ شراکت کی تھی۔بی جے پی کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اسے وائی ایس آر کانگریس جیسے کمزور ساتھی پسند ہیں، جو بدعنوانی کے معاملے کا سامنا کر رہے ہیں اور جن پر کنٹرول حاصل کرنا آسان ہے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے ایک سال کے اندر یکطرفہ انداز تیلگانہ میں اتحاد توڑ لیا، اس کے باوجود ہم نے آندھرا میں رشتہ جاری رکھا۔ہم نے چار سال اس امید میں کہ بی جے پی ریاست کے بارے میں اپنے وعدے کو پورا کرے گی، اس کے بعد ہم نے این ڈی اے چھوڑا۔انہوں نے الزام لگایا کہ آندھرا میں بی جے پی بدامنی کو فروغ دے رہی ہے۔جب میں نے آندھرا کے مفادات کی حفاظت کے لئے آواز اٹھائی، تو بی جے پی نے رائلسیما میں علاقائی تحریک کو اکسانا شروع کر دیا۔ایک علاقائی پارٹی ہونے کے باوجود ہم زیادہ سے زیادہ قومی رویہ اختیارکرتے ہیں، جبکہ ایک قومی پارٹی ہونے کے باوجود بی جے پی علاقی تحریکوں کا سہارا لے رہی ہے۔


Share: